پول[4]
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کھوکھلا پَن، خالی پن، جس کے اندر کچھ نہ ہو، (مجازاً) راز۔ 'نادان جیسے ڈھول کہ آواز بلند مگر اندر پول۔" ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٢٠٧ )
اشتقاق
سنسکرت میں لفظ 'پُل' سے ماخوذ 'پول' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٠ء کو 'جوگ بششٹھ (ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کھوکھلا پَن، خالی پن، جس کے اندر کچھ نہ ہو، (مجازاً) راز۔ 'نادان جیسے ڈھول کہ آواز بلند مگر اندر پول۔" ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٢٠٧ )
اصل لفظ: پُل
جنس: مذکر